بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کیاآپ کومعلوم ہے کہ گنبدحضریٰ پہلے نیلاہواکرتاتھا سعودی حکومت نے جب اسے گرانے کی کوشش کی توکیاہوا؟

  جمعہ‬‮ 7 ستمبر‬‮ 2018  |  17:22

گنبدحضریٰ حضوراکرم ؐ کی قبرمبارک کے اوپربنایاگیا،678ہجری سے قبل آپ ؐ کی قبرمبارک کے اوپرکوئی گنبدنہیں تھااس کے بعدمملکت کے حکمران المنصورقلاوان نے پہلی مرتبہ آپ ؐ کی قبرمبارک پرلکڑی کاگنبدبنوایابعدمیں893ہجری میں ترک بادشاہ قبطائی نے گنبدبنوایااوراس پرسبزرنگ کاپینٹ کروایا۔992ہجری میں

ترک بادشاہ قبطائی نے ہی دوبارہ گنبدکی تعمیرکروائی اوراس مرتبہ اس پرنیلارنگ کیاگیا۔1233 ہجری میں بادشاہ محمودبن عبدالحمیدعثمانی نے نیانیاگنبدبنوایاجس کارنگ گہراسبز تھااوریہی رنگ آج تک استعمال ہورہاہے۔1902میں سلطان عبدالعزیزبن عبدالرحمٰن بن سعودایک چھوٹی سی ریاست دریاکاحکمران تھا۔عبدالعزیزبہت نیک آدمی اورعظیم بادشاہ تھا۔اس نے 1902میں ریاض کوفتح کیا۔ایک چھوٹاساماڈل قائم کیا۔1924میں اس نے مکہ اور1925میںاس نے مدینہ فتح

کیا۔1936میںاس نے ساراسعودی عرب فتح کرکے اس کانام المملکتہ العربیہ السعودیہ رکھا،1939میں وہاں سے تیل نکل آیا،1925میں جب مدینہ فتح ہواتوعلمانجدجن میں شدت بہت ہے وہ محبت اورحدودمیں فرق نہیں کرسکتے۔

گستاخی بھی حرام ہے اورحدودسے تجاوزبھی حرام ہےنجدی علمانے کہاکہ مدینے میں جتنے بھی نشانات ہیں سارے مٹادواس وقت جنت البقیع کے سارے نشانات مٹادئیے گئے ۔انہوں نے کہاکہ یہ سبزگنبدبھی توڑ دیاجائے ۔قبرپرگنبدبنانامنع ہے۔ جب یہ فتویٰ دنیامیں پھیلاتواس پرردعمل ہواکہ یہ کیوں توڑا جائے اس وقت سعودی نجدی علما نے مناظرے کی دعوت دی ساری دنیاسے علماوہاں جمع ہوگئے۔1925میں ہندوستان سے بھی علماکاایک وفدوہاں گیا۔اس وفدمیں ایک شخص شبیراحمدعثمانی جودیوبندکاپڑھاہواہے وہ بھی شامل تھا۔ہندوستان کے وفدکی جب آپس میں گفتگوہوئی کہ ہمارامقدمہ کون لڑ ے گا

 توعراقی شامی اورترک سب علما نے شبیراحمدعثمانی کوترجمان مقررکیا۔سلطان عبدالعزیزکے سامنے مناظرہ ہواعلمانجدنے اپنے دلائل پیش کیے ۔تمام حدیثیں تھیں اورصحیح حدیثیں تھیں ۔مولاناشبیراحمدعثمانی نے ایک حدیث کو بنیادبناکردوگھنٹے مناظرہ کیاوہ بخاری شریف کی ایک حدیث ہے۔علما نجدسرجھکاکربیٹھے ہوئے تھاسلطان عبدالعزیزنے علما نجدسے کہاکہ اس کوجواب دواس وقت علما نجدنے کہاکہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں پھرسلطان عبدالعزیزنے کہاکہ شبیراحمدعثمانی فیصلہ صحیح ہےاسی لیے اس سبزگنبدکوباقی رکھاجائے گا۔ یہ سبز گنبدبرصغیرکے علما کے طفیل کھڑ اہے ۔


انٹرنیٹ کی دنیا سے ‎‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎